کلامِ میرردیف الف

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا

۱

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کایاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

۲

لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کاحسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا

۳

کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیےحسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

۴

درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میںسیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

۵

جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیاتنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا

۶

کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیںہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا

۷

وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوبہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا

۸

اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوںنقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا

۹

بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیںمعتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا

۷۳ / ۵۸۲