کلامِ میرردیف الف
نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا
۱
نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچااس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا
۲
رسم قلمرو عشق مت پوچھ کچھ کہ ناحقایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
۳
تھا بد شراب ساقی کتنا کہ رات مے سےمیں نے جو ہاتھ کھینچا ان نے کٹار کھینچا
۴
مستی میں شکل ساری نقاش سے کھنچی پرآنکھوں کو دیکھ اس کی آخر خمار کھینچا
۵
جی کھنچ رہے ہیں اودھر عالم کا ہوگا بلوہگر شانے تو نے اس کی زلفوں کا تار کھینچا
۶
تھا شب کسے کسائے تیغ کشیدہ کف میںپر میں نے بھی بغل بغل بے اختیار کھینچا
۷
پھرتا ہے میرؔ تو جو پھاڑے ہوئے گریباںکس کس ستم زدے نے داماں یار کھینچا
۷۸ / ۵۸۲