نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیررو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا

About this couplet

This is couplet 5 of 6 in “⁨نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۵ / ۶