نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہےمعتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
About this couplet
This is couplet 6 of 6 in “نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۶ / ۶