کلامِ میرردیف الف
پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا
۱
پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچانالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا
۲
اس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھاوےکام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا
۳
جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کیآوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا
۴
لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرےکار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا
۵
لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئیوقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا
۶
یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سےپژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا
۷
مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویںخوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا
۸
یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا شمعیہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا
۹
افسوس میرؔ وے جو ہونے شہید آئےپھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا
۸۱ / ۵۸۲