کلامِ میرردیف الف

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

۱

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیاجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

۲

فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کربرنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا

۳

رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقیسو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا

۴

مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدمنہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا

۵

بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کوچمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا

۶

جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلفکسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا

۷

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نےجو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

۸۲ / ۵۸۲