کلامِ میرردیف الف

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

۱

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیادیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

۲

دہر میں میں خاک بسر ہی رہاعمر کو اس طور بسر کر گیا

۳

دل نہیں ہے منزل سینہ میں ابیاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا

۴

حیف جو وہ نسخۂ دل کے اپرسرسری سی ایک نظر کر گیا

۵

کس کو مرے حال سے تھی آگہینالۂ شب سب کو خبر کر گیا

۶

گو نہ چلا تا مژۂ تیر نگہاپنے جگر سے تو گزر کر گیا

۷

مجلس آفاق میں پروانہ ساںمیرؔ بھی شام اپنی سحر کر گیا

۸۳ / ۵۸۲