کلامِ میرردیف الف
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
۱
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیاکہ کارواں کا کنعاں کے جی نکال لیا
۲
رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بل ہم بھیشکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
۳
رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نےگلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا
۴
بتاں کی میرؔ ستم وہ نگاہ ہے جس نےخدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
۸۴ / ۵۸۲