کلامِ میرردیف الف
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا
۱
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکااک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا
۲
افسوس میرے مردے پر اتنا نہ کر کہ ابپچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا
۳
لگتی نہیں پلک سے پلک انتظار میںآنکھیں اگر یہی ہیں تو بھر نیند سو چکا
۴
یک چشمک پیالہ ہے ساقی بہار عمرجھپکی لگی کہ دور یہ آخر ہی ہو چکا
۵
ممکن نہیں کہ گل کرے ویسی شگفتگیاس سرزمیں میں تخم محبت میں بو چکا
۶
پایا نہ دل بہایا ہوا سیل اشک کامیں پنجۂ مژہ سے سمندر بلو چکا
۷
ہر صبح حادثے سے یہ کہتا ہے آسماںدے جام خون میرؔ کو گر منہ وہ دھو چکا
۸۶ / ۵۸۲