کلامِ میرردیف الف

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا

۱

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیاسو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا

۲

گلشن کے طائروں نے کیا بے مروتی کییک برگ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا

۳

بے ہیچ اس کا غصہ یارو بلائے جاں ہےہرگز منا نہ ہم سے بہتیرا ہی منایا

۴

قد بلند اگرچہ بے لطف بھی نہیں ہےسرو چمن میں لیکن اندازہ وہ نہ پایا

۵

نقشہ عجب ہے اس کا نقاش نے ازل کےمطبوع ایسا چہرہ کوئی نہ پھر بنایا

۶

شب کو نشے میں باہم تھی گفتگوئے درہماس مست نے جھنکایا یعنی بہت جھکایا

۷

دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھابخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا

۸

عاشق جہاں ہوا ہے بے ڈھنگیاں ہی کی ہیںاس میرؔ بے خرد نے کب ڈھب سے دل لگایا

۸۷ / ۵۸۲