کلامِ میرردیف الف

واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا

۱

واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلایاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا

۲

آیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگیہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا

۳

دیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخرگل کا وہ روئے خنداں چشم پر آب نکلا

۴

پردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتراک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا

۵

کچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتےاس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا

۶

ہر حرف غم نے میرے مجلس کے تئیں رلایاگویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا

۷

روئے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہواس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا

۸

مطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارےنامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا

۹

شان تغافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہمقاصد موا تب اس کے منہ سے جواب نکلا

۱۰

کس کی نگہ کی گردش تھی میرؔ رو بہ مسجدمحراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا

۸۸ / ۵۸۲