کلامِ میرردیف الف
کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا
۱
کب تلک یہ ستم اٹھائیے گاایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا
۲
شکل تصویر بے خودی کب تککسو دن آپ میں بھی آئیے گا
۳
سب سے مل چل کہ حادثے سے پھرکہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پائیے گا
۴
نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیمکوئی دن اور باؤ کھائیے گا
۵
کہیے گا اس سے قصۂ مجنوںیعنی پردے میں غم سنایئے گا
۶
اس کے پابوس کی توقع پراپنے تیں خاک میں ملایئے گا
۷
اس کے پاؤں کو جا لگی ہے حناخوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا
۸
شرکت شیخ و برہمن سے میرؔکعبہ و دیر سے بھی جائیے گا
۹
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجدکسی ویرانے میں بنایئے گا
۸۹ / ۵۸۲