کلامِ میرردیف الف
کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا
کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھاکبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباںکہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا
دل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلککبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا
دل مضطرب سے گزر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میںنہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا
جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہاکہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا
یہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاںوہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا
نہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگیاسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا
کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفامگر ایک میرؔ شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا
۹۰ / ۵۸۲