کلامِ میرردیف الف

کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا

۱

کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھاکبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا

۲

دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباںکہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا

۳

دل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلککبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا

۴

دل مضطرب سے گزر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میںنہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا

۵

جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہاکہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا

۶

یہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاںوہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا

۷

نہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگیاسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا

۸

کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفامگر ایک میرؔ شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا

۹۰ / ۵۸۲