کلامِ میرردیف الف
کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
۱
کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گاجیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا
۲
یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبتزخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا
۳
تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہےجی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا
۴
میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہیآیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا
۵
غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سےبھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا
۶
مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کیگو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا
۷
عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزریبیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا
۸
دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کربیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا
۹
کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہےقید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا
۹۱ / ۵۸۲