کلامِ میرردیف الف

کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا

۱

کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھاشام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یکجا نہ تھا

۲

شہرۂ عالم اسے یمن محبت نے کیاورنہ مجنوں ایک خاک افتادۂ ویرانہ تھا

۳

منزل اس مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشیںاب وہ دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خانہ تھا

۴

اک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیںوا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزۂ بیگانہ تھا

۵

روز و شب گزرے ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھےاے دل صد چاک کس کی زلف کا تو شانہ تھا

۶

یاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جائے باشیا در باز بیاباں یا درمے خانہ تھا

۷

جس کو دیکھا ہم نے اس وحشت کدے میں دہر کےیا سڑی یا خبطی یا مجنون یا دیوانہ تھا

۸

بعد خوں ریزی کے مدت بے حنا رنگیں رہاہاتھ اس کا جو مرے لوہو میں گستاخانہ تھا

۹

غیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہیہ نہ سمجھا وہ کہ واقع میں بھی کچھ تھا یا نہ تھا

۱۰

صبح ہوتے وہ بناگوش آج یاد آیا مجھےجو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دانہ تھا

۱۱

شب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوستشمع کا جلوہ غبار دیدۂ پروانہ تھا

۱۲

رات اس کی چشم میگوں خواب میں دیکھی تھی میںصبح سوتے سے اٹھا تو سامنے پیمانہ تھا

۱۳

رحم کچھ پیدا کیا شاید کہ اس بے رحم نےگوش اس کا شب ادھر تا آخر افسانہ تھا

۱۴

میرؔ بھی کیا مست طافح تھا شراب عشق کالب پہ عاشق کے ہمیشہ نعرۂ مستانہ تھا

۹۳ / ۵۸۲