کلامِ میرردیف الف

کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا

۱

کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھاکون سے درد و ستم کا یہ طرف دار نہ تھا

۲

آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہآئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا

۳

دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیںتیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا

۴

صد گلستاں تا یک بال تھے اس کے جب تکطائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا

۵

حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہبے گنہ مارنے قابل یہ گنہ گار نہ تھا

۶

عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہیوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا

۷

نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضاسنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا

۸

رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میرؔدرد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا

۹۴ / ۵۸۲