کلامِ میرردیف الف

کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا

۱

کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیاکبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا

۲

لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائےآنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا

۳

گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہےجی گیا پر نہ ہمارا سر پر شور گیا

۴

چشم خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکاہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا

۵

ناتواں ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی اس کیاب تو بے طاقتی سے دل کا بھی مقدور گیا

۶

لے کہیں منہ پہ نقاب اپنے کہ اے غیرت صبحشمع کے چہرۂ رخشاں سے تو اب نور گیا

۷

نالۂ میرؔ نہیں رات سے سنتے ہم لوگکیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا

۹۵ / ۵۸۲