کلامِ میرردیف الف
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
۱
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد ساسو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا
۲
بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میںپھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا
۳
قصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیسلیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا
۴
حاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیںمعشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا
۵
کیا میرؔ ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑانمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا
۹۶ / ۵۸۲