کلامِ میرردیف ے
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
۱
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہےعرش پر برچھیاں چلاتی ہے
۲
ناز بردار لب ہے جاں جب سےتیرے خط کی خبر کو پاتی ہے
۳
اے شب ہجر راست کہہ تجھ کوبات کچھ صبح کی بھی آتی ہے
۴
چشم بددور چشم تر اے میرؔآنکھیں طوفان کو دکھاتی ہے
۲۵۸ / ۵۸۲