کلامِ میرردیف ے
اب جو اک حسرت جوانی ہے
۱
اب جو اک حسرت جوانی ہےعمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
۲
رشک یوسف ہے آہ وقت عزیزعمر اک بار کاروانی ہے
۳
گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچدل میں کوئی غم نہانی ہے
۴
ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہتا چمن ایک پرفشانی ہے
۵
اس کی شمشیر تیز ہے ہمدممر رہیں گے جو زندگانی ہے
۶
غم و رنج و الم نکو یاں سےسب تمہاری ہی مہربانی ہے
۷
خاک تھی موجزن جہاں میں اورہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے
۸
یاں ہوئے میرؔ تم برابر خاکواں وہی ناز و سرگرانی ہے
۲۵۹ / ۵۸۲