کلامِ میرردیف ی
ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئی
۱
ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئیطرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
۲
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھامری خاک بدلی سی سب چھا گئی
۳
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھگل و برگ بے درد پھیلا گئی
۴
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کےہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
۵
جگر منہ تک آتے نہیں بولتےغرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
۶
نہ ہم رہ کوئی نا کسی سے گیامری لاش تا گور تنہا گئی
۷
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جاؤں چلاطبع غم جگر کو مرے کھا گئی
۸
کوئی رہنے والی ہے جان عزیزگئی گر نہ امروز فردا گئی
۹
کیے دست و پا گم جو میرؔ آ گیاوفا پیشہ مجلس اسے پا گئی
۲۵۷ / ۵۸۲