کلامِ میرردیف ے

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

۱

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سےکرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے

۲

پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دورکر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے

۳

ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھاکوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے

۴

مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلےجی اپنا کیوں کہ اچٹے نہ روزے نماز سے

۵

کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تماموہ دیکھنا ترا مژۂ نیم باز سے

۶

دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشقپرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے

۷

آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشتکرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے

۸

مانع ہوں کیوں کہ گریۂ خونیں کے عشق میںہے ربط خاص چشم کو افشائے راز سے

۹

شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میرؔکھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے

۲۶۰ / ۵۸۲