کلامِ میرردیف ے
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
۱
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہےہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
۲
مصائب اور تھے پر دل کا جاناعجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
۳
مقامر خانۂ آفاق وہ ہےکہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے
۴
کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیشمزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے
۵
سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولوابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
۲۶۱ / ۵۸۲