کلامِ میرردیف ے
اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے
۱
اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھےپیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھے
۲
آزردہ دل الفت ہم چپکے ہی بہتر ہیںسب رو اٹھے گی مجلس جو کر کے سخن بیٹھے
۳
عریان پھریں کب تک اے کاش کہیں آ کرتا گرد بیاباں کی بالائے بدن بیٹھے
۴
پیکان خدنگ اس کا یوں سینے کے اودھر ہےجوں مار سیہ کوئی کاڑھے ہوئے پھن بیٹھے
۵
جز خط کے خیال اس کے کچھ کام نہیں ہم کوسبزی پیے ہم اکثر رہتے ہیں مگن بیٹھے
۶
شمشیر ستم اس کی اب گو کا چلے ہر دمشوریدہ سر اپنے سے ہم باندھ کفن بیٹھے
۷
بس ہو تو ادھر اودھر یوں پھرنے نہ دیں تجھ کوناچار ترے ہم یہ دیکھیں ہیں چلن بیٹھے
۲۶۲ / ۵۸۲