کلامِ میرردیف ے

برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے

۱

برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتےکہ ہم راہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

۲

سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کووگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے

۳

فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہمغبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے

۴

الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خواہشہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے

۵

تو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوںترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے

۶

اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچےجو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے

۷

کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میرؔ کیا جانیںانہیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے

۲۶۳ / ۵۸۲