کلامِ میرردیف ے
بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے
۱
بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہےدکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے
۲
اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیںہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہو رہا ہے
۳
اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنیآئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے
۴
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہےیعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے
۵
حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا توسنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہو رہا ہے
۶
ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہیایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہو رہا ہے
۷
قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سودشوار جان دینا آسان ہو رہا ہے
۸
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تماک روز میرؔ صاحب طوفان ہو رہا ہے
۲۶۴ / ۵۸۲