کلامِ میرردیف ے
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
۱
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گےخمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے
۲
رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دمیہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے
۳
ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباںجیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے
۴
درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصتگوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے
۵
آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھیترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے
۶
کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہاس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے
۷
عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامتتیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے
۸
دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سےجنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے
۹
لائی تری گلی تک آوارگی ہماریذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے
۱۰
احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میںاک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے
۲۶۵ / ۵۸۲