کلامِ میرردیف ے
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
۱
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سےوقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
۲
داغ فراق و حسرت وصل آرزوئے دیدکیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
۳
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میںنکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے
۴
آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگرکیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے
۵
جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہماس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
۶
آنے کا اس چمن میں سبب بیکلی ہوئیجوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے
۷
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیںالقصہ خوش گزرتی ہے اس بد گمان سے
۸
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی دادمیں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
۹
داغوں سے ہے چمن جگر میرؔ دہر میںان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے
۲۶۶ / ۵۸۲