کلامِ میرردیف ے

بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے

۱

بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہےباؤ سے اک دماغ نکلے ہے

۲

ہے جو اندھیر شہر میں خورشیددن کو لے کر چراغ نکلے ہے

۳

چوب کاری ہی سے رہے گا شیخاب تو لے کر چماغ نکلے ہے

۴

دے ہے جنبش جو واں کی خاک کو باؤجگر داغ داغ نکلے ہے

۵

ہر سحر حادثہ مری خاطربھر کے خوں کا ایاغ نکلے ہے

۶

اس گلی کی زمین تفتہ سےدل جلوں کا سراغ نکلے ہے

۷

شاید اس زلف سے لگی ہے میرؔباؤ میں اک دماغ نکلے ہے

۲۶۷ / ۵۸۲