کلامِ میرردیف ے
جس جگہ دور جام ہوتا ہے
۱
جس جگہ دور جام ہوتا ہےواں یہ عاجز مدام ہوتا ہے
۲
ہم تو اک حرف کے نہیں ممنونکیسا خط و پیام ہوتا ہے
۳
تیغ ناکاموں پہ نہ ہر دم کھینچاک کرشمے میں کام ہوتا ہے
۴
پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاشروز ان کا بھی شام ہوتا ہے
۵
زخم بن غم بن اور غصہ بناپنا کھانا حرام ہوتا ہے
۶
شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطانجس پہ شب احتلام ہوتا ہے
۷
قتل کو میں کہا تو اٹھ بولاآج کل صبح و شام ہوتا ہے
۸
آخر آؤں گا نعش پر اب آہکہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے
۹
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے پرجیسے کوئی غلام ہوتا ہے
۲۶۸ / ۵۸۲