کلامِ میرردیف ے

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

۱

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئےاکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

۲

ہوتا نہیں ہے اس لب نوخط پہ کوئی سبزعیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے

۳

یوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہسر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے

۴

صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیںگویا متاع دل کے خریدار مر گئے

۵

مجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میںتھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے

۶

گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیرتو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے

۷

افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میںلگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے

۸

تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلاجب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے

۹

گھبرا نہ میرؔ عشق میں اس سہل زیست پرجب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے

۲۶۹ / ۵۸۲