کلامِ میرردیف ے
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
۱
جب سے اس بے وفا نے بال رکھےصید بندوں نے جال ڈال رکھے
۲
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچیوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
۳
رہرو راہ خوفناک عشقچاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے
۴
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرےوہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
۵
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے ابملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
۶
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلکمجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
۷
سمجھے انداز شعر کو میرےمیرؔ کا سا اگر کمال رکھے
۲۷۰ / ۵۸۲