کلامِ میرردیف ے
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
۱
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہےرومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے
۲
آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سےخورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے
۳
آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سےآنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے
۴
ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سےاب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے
۵
آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کیپر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے
۶
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنےخون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
۷
در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کوتب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے
۸
آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گےبرسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے
۹
میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کرکوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے
۲۷۱ / ۵۸۲