کلامِ میرردیف ے

جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے

۱

جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے

۲

تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالمیہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے

۳

مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخدیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے

۴

کیا جانیں وے مرغان گرفتار چمن کوجن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے

۵

تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہکس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے

۶

ہر سو سر تسلیم رکھے صید حرم ہیںوہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے

۷

دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقتاب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے

۸

واعظ نہیں کیفیت مے خانہ سے آگاہیک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے

۹

صناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھیہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے

۱۰

اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سر راہ پہ زنہارکہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے

۱۱

مت دشت محبت میں قدم رکھ کہ خضر کوہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے

۲۷۲ / ۵۸۲