کلامِ میرردیف ے

تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے

۱

تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گےبھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے

۲

اب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جاکسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے

۳

معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کاپہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے

۴

ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھوہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے

۵

جا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کیوقت کے وقت یہ سب منہ کو چھپا بیٹھیں گے

۶

دیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہےاب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے

۷

بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کےگردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے

۸

کب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیےدل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے

۹

شعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میرؔگھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

۲۷۳ / ۵۸۲