کلامِ میرردیف ے
تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
۱
تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنےمیں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے
۲
نہ پوچھو کہ احوال ناگفتہ بہ ہےمصیبت کے مارے ہوئے دل کا اپنے
۳
دل زخم خوردہ کے اور اک لگائیمداوا کیا خوب گھائل کا اپنے
۴
جو خوشہ تھا صد خرمن برق تھا یاںجلایا ہوا ہوں میں حاصل کا اپنے
۵
ٹک ابرو کو میری طرف کیجے مائلکبھو دل بھی رکھ لیجے مائل کا اپنے
۶
ہوا دفتر قیس آخر ابھی یاںسخن ہے جنوں کے اوائل کا اپنے
۷
بنائیں رکھیں میں نے عالم میں کیا کیاہوں بندہ خیالات باطل کا اپنے
۸
مقام فنا واقعے میں جو دیکھااثر بھی نہ تھا گور منزل کا اپنے
۲۷۴ / ۵۸۲