کلامِ میرردیف ے

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

۱

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہےدل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

۲

رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گلآنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے

۳

بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشقبعد ازاں اے کوہ کن سر ہے ترا اور سنگ ہے

۴

آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لائیےجن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصۂ تنگ ہے

۵

عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایکنا خلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے

۶

چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹکآہ بھی سرد گلستاں شکست رنگ ہے

۷

ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واںدو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے

۸

ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنجتجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے

۹

پاؤں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دےپیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذر لنگ ہے

۱۰

فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یارورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے

۱۱

سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئےشعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے

۱۲

صبر بھی کریے بلا پر میرؔ صاحب جی کبھوجب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے

۲۷۵ / ۵۸۲