کلامِ میرردیف ے

خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے

۱

خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھےغم زدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھے

۲

دشمنی جانی ہے اب تو ہم سے غیروں کے لیےاک سماں سا ہو گیا وہ بھی کہ ہم یاروں میں تھے

۳

مت تبختر سے گزر قمری ہماری خاک پرہم بھی اک سرو رواں کے ناز برداروں میں تھے

۴

مر گئے لیکن نہ دیکھا تو نے اودھر آنکھ اٹھاآہ کیا کیا لوگ ظالم تیرے بیماروں میں تھے

۵

شیخ جی مندیل کچھ بگڑی سی ہے کیا آپ بھیرندوں بانکوں میکشوں آشفتہ دستاروں میں تھے

۶

گرچہ جرم عشق غیروں پر بھی ثابت تھا ولےقتل کرنا تھا ہمیں ہم ہی گنہ گاروں میں تھے

۷

اک رہا مژگاں کی صف میں ایک کے ٹکڑے ہوئےدل جگر جو میرؔ دونوں اپنے غم خواروں میں تھے

۲۷۶ / ۵۸۲