کلامِ میرردیف ے
حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے
حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہےسماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے
موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یاروکسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے
اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیرصنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے
یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلبلگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے
ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوںنگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے
جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکےجراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے
کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیےہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے
ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکنکہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے
غم فراق ہے دنبالۂ گرد عیش وصالفقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے
قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دیناجو کچھ بھی پائیے تجھ کو تو آشنا بھی ہے
جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑوکسو کے زخم کو تو نے کبھو سیا بھی ہے
گزار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوںکہ اس دیار میں میرؔ شکستہ پا بھی ہے
۲۷۷ / ۵۸۲