کلامِ میرردیف ے

خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے

۱

خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہےملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے

۲

جس سے اسے لگاؤں روکھا ہی ہو ملے ہےسینے میں جل کر از بس دل خاک ہو گیا ہے

۳

کیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کییہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے

۴

صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہوگااس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے

۵

دیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائےاٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے

۶

شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیراب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے

۷

ہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارےقاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے

۸

زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میرؔکس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے

۲۷۸ / ۵۸۲