کلامِ میرردیف ے

دل بیتاب آفت ہے بلا ہے

۱

دل بیتاب آفت ہے بلا ہےجگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

۲

ہمارا تو ہے اصل مدعا توخدا جانے ترا کیا مدعا ہے

۳

محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاسہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے

۴

حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیباگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے

۵

نہیں ملتا سخن اپنا کسو سےہمارا گفتگو کا ڈھب جدا ہے

۶

کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھرفضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے

۷

مروں میں اس میں یا رہ جاؤں جیتایہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے

۸

صبا اودھر گل اودھر سرو اودھراسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے

۹

تماشا کردنی ہے داغ سینہیہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے

۱۰

ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیںقیامت جیسے اک اس کی ادا ہے

۱۱

جگہ افسوس کی ہے بعد چندےابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے

۱۲

جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تمکہو جو کچھ تمہارا مدعا ہے

۱۳

سخن کریے تو ہووے حرف زن یوںبس اب منہ موند لے میں نے سنا ہے

۱۴

کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالماگرچہ یار عالم آشنا ہے

۱۵

نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہرپہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے

۱۶

لگا میں گرد سر پھرنے تو بولاتمہارا میرؔ صاحب سرپھرا ہے

۲۷۹ / ۵۸۲