کلامِ میرردیف ے
رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے
۱
رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتےآنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے
۲
کھول کر آنکھ اڑا دید جہاں کا غافلخواب ہو جائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے
۳
داغ اگتے رہے دل میں مری نومیدی سےہارا میں تخم تمنا کو بھی بوتے بوتے
۴
جی چلا تھا کہ ترے ہونٹ مجھے یاد آئےلعل پائیں ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے
۵
جم گیا خوں کف قاتل پہ طرح میرؔ زبسان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
۲۸۰ / ۵۸۲