کلامِ میرردیف ے

دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہے

۱

دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہےجو ہے سو کوئی دم کو فیصل ہے

۲

کثرت غم سے دل لگا رکنےحضرت دل میں آج دنگل ہے

۳

روز کہتے ہیں چلنے کو خوباںلیکن اب تک تو روز اول ہے

۴

چھوڑ مت نقد وقت نسیہ پرآج جو کچھ ہے سو کہاں کل ہے

۵

بند ہو تجھ سے یہ کھلا نہ کبھودل ہے یا خانۂ مقفل ہے

۶

سینہ چاکی بھی کام رکھتی ہےیہی کر جب تلک معطل ہے

۷

اب کے ہاتھوں میں شوق کے تیرےدامن بادیہ کا آنچل ہے

۸

ٹک گریباں میں سر کو ڈال کے دیکھدل بھی کیا لق و دق جنگل ہے

۹

ہجر باعث ہے بد گمانی کاغیرت عشق ہے تو کب کل ہے

۱۰

مر گیا کوہ کن اسی غم میںآنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے

۲۸۱ / ۵۸۲