کلامِ میرردیف ے

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے

۱

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہےٹک آپ بھی تو آئیے یاں زور باؤ ہے

۲

اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سےناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھاؤ ہے

۳

باغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاںٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھاؤ ہے

۴

تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی ابجو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی داؤ ہے

۵

ٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شبچہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھاؤ ہے

۶

ضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہواب دل کی طرف لوہو کا سارا بہاؤ ہے

۷

اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئیلاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بناؤ ہے

۸

چھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخمپردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپاؤ ہے

۹

عاشق کہیں جو ہو گے تو جانو گے قدر میرؔاب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چاؤ ہے

۲۸۲ / ۵۸۲