کلامِ میرردیف ے

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

۱

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیےایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

۲

عشق و مے خواری نبھے ہے کوئی درویشی کے بیچاس طرح کے خرج لا حاصل کو دولت چاہیے

۳

عاقبت فرہاد مر کر کام اپنا کر گیاآدمی ہووے کسی پیشہ میں جرأت چاہیے

۴

ہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخنسامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیے

۵

عشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگوقرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیے

۶

نازکی کو عشق میں کیا دخل ہے اے بوالہوسیاں صعوبت کھینچنے کو جی میں طاقت چاہیے

۷

تنگ مت ہو ابتداے عاشقی میں اس قدرخیریت ہے میرؔ صاحب دل سلامت چاہیے

۲۸۳ / ۵۸۲