کلامِ میرردیف ے

شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے

۱

شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہےاس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے

۲

سر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیافرہاد کے جہان سے جانے کو عشق ہے

۳

اٹھیو سمجھ کے جا سے کہ مانند گرد بادآوارگی سے تیری زمانے کو عشق ہے

۴

بس اے سپہر سعی سے تیری تو روز و شبیاں غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے

۵

بیٹھی جو تیغ یار تو سب تجھ کو کھا گئیاے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے

۶

اک دم میں تو نے پھونک دیا دو جہاں کے تیںاے عشق تیرے آگ لگانے کو عشق ہے

۷

سودا ہو تب ہو میرؔ کو تو کریے کچھ علاجاس تیرے دیکھنے کے دوانے کو عشق ہے

۲۸۴ / ۵۸۲