کلامِ میرردیف ے

رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے

۱

رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھےدل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے

۲

پاس ناموس عشق تھا ورنہکتنے آنسو پلک تک آئے تھے

۳

وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے توزخم چھاتی کے سب دکھائے تھے

۴

اب جہاں آفتاب میں ہم ہیںیاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے

۵

کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نےکس توقع پہ دل لگائے تھے

۶

فرصت زندگی سے مت پوچھوسانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے

۷

میرؔ صاحب رلا گئے سب کوکل وے تشریف یاں بھی لائے تھے

۲۸۵ / ۵۸۲