کلامِ میرردیف ے

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

۱

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہےتیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

۲

ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سبکارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے

۳

ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئےیہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے

۴

پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاکحال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے

۵

اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میںجادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے

۲۸۷ / ۵۸۲