کلامِ میرردیف ے
رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے
۱
رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہےہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے
۲
نہ اٹھ تو گھر سے اگر چاہتا ہے ہوں مشہورنگیں جو بیٹھا ہے گڑ کر تو کیسا نامی ہے
۳
ہوئی ہیں فکریں پریشان میرؔ یاروں کیحواس خمسہ کرے جمع سو نظامیؔ ہے
۲۸۹ / ۵۸۲