کلامِ میرردیف ے
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے
۱
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہےپھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے
۲
مارا ہے کس کو ظالم اس بے سلیقگی سےدامن تمام تیرا لوہو میں بھر رہا ہے
۳
پہنچا تھا تیغ کھینچے مجھ تک جو بولے دشمنکیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے
۴
آنے کہا ہے میرے خوش قد نے رات گزرےہنگامۂ قیامت اب صبح پر رہا ہے
۵
چل ہم نشیں کہ دیکھیں آوارہ میرؔ کو ٹکخانہ خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے
۲۹۰ / ۵۸۲